کتب صدیوں سے علم و دانائی اور رہنمائی کا لازوال ذریعہ رہی ہیں، مطالعہ کی عادت شہریوں کی فکری نشوونما، تخلیقی صلاحیت اور باخبر بننے کیلئے بنیادی اہمیت کی حامل ہے ، وزیراعظم

کتب صدیوں سے علم و دانائی اور رہنمائی کا لازوال ذریعہ رہی ہیں، مطالعہ کی عادت شہریوں کی فکری نشوونما، تخلیقی صلاحیت اور باخبر بننے کیلئے بنیادی اہمیت کی حامل ہے ، وزیراعظم
اسلام آباد۔ (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قومی فکری ارتقاء میں اساتذہ و ادباء کے تعمیری کردار اور خدمات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ کتب صدیوں سے علم و دانائی اور رہنمائی کا لازوال ذریعہ رہی ہیں اور مطالعہ کی عادت شہریوں کی فکری نشوونما، تخلیقی صلاحیت اور باخبر بننے کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل ہے ۔ عالمی یوم کتب پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ وہ عالمی یوم کتب پر پاکستان اور دنیا بھر کے قارئین، مصنفین، ادباء ، ناشرین، اساتذہ اورطالب علم کو ان کی کتابوں سے لگائو اور مطالعہ سے رغبت پر دلی مبارکباد بالخصوص پاکستان کے ادباء اور اساتذہ کی قومی فکری ارتقاء میں تعمیری کردار اور ان کی بیش قدر خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ کتابیں صدیوں سے علم و دانائی اور رہنمائی کا ایک لازوال ذریعہ رہی ہیں، کتابوں کی دائمی اہمیت اور مطالعہ کی انقلابی قوت کا ادراک یقیناً باشعور ذہن کا عکاس ہے۔ کتابیں نئی سوچ، مختلف نقطہ نظر اور ثقافتوں سے متعارف کرواتی ہیں اور ذہنی افق اور فہم کو وسعت دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کتابیں باشعور ذہن کی تشکیل، تنقیدی سوچ کے فروغ کے ساتھ ساتھ ہمدردی، امن و برداشت جیسے اوصاف کی ترویج کا بھی ذریعہ ہیں، یہی مثبت اوصاف ایک پرامن اور ترقی یافتہ معاشرے کی بیناد کو مضبوط کرتےہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ترقی کے دور میں ڈیجیٹل ذرائع سے معلومات تک رسائی میں آسانی سے کتب اور مطالعہ کی اہمیت اور بھی اجاگر ہو گئی ہے۔ مطالعہ کی عادت فکری نشوونما، تخلیقی صلاحیت اور باخبر شہری بننے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی شاندار ادبی روایات، علمی ورثہ اور علم و دانش، قومی ترقی کے بنیادی ستون ہیں۔ کلاسیکی علوم سے لے کر جدید ادب تک، ہمارے ادیب اور دانشوروں نے گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں جو آج بھی نئی نسل کے لیے مشعل راہ ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ نوجوان نسل میں مطالعہ کے رحجان کو فروغ دینا اور معیاری کتب تک رسائی کو یقینی بنانا نہایت ضروری ہے تاکہ ان کی بطور باشعور اور ذمہ دار شہری کے تربیت کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزارت تعلیم اور نیشنل بک فائونڈیشن مطالعہ کے فروغ، مصنفین و ناشرین کی معاونت اور معیاری و سستی کتب کی فراہمی کے لیے سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے نوجوانوں، اساتذہ، والدین اور تعلیمی اداروں سے خصوصی اپیل کی کہ وہ اجتماعی سطح پر معاشرے میں مطالعہ کی عادت کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ آئیے تجدید عزم کریں کہ ہم خواندگی کے فروغ، علم تک رسائی میں آسانی اور تحریر و کتب کی قدر کو اجاگر کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے تاکہ علم پر مبنی، باشعور اور روشن خیال پاکستان کی تعمیر میں اپنا فرض ادا کر سکیں۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.