واشنگٹن(بی بی سی)پینٹاگون کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کے عمل میں چھ ماہ تک لگ سکتے ہیں اور غالب امکان ہے کہ یہ کارروائی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے بعد ہی شروع کی جائے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بارودی سرنگیں ایران کی جانب سے بچھائی گئی ہیں۔
بی بی سی عربی نے واشنگٹن پوسٹ کی ایک خبر کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ بات محکمۂ دفاع کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے منگل کے روز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے ارکان کو بند کمرے میں دی گئی بریفنگ کے دوران کہی۔ اس بریفنگ سے آگاہ تین عہدیداروں نے اس کی تصدیق کی ہے۔
ان میں سے دو عہدیداروں نے بتایا کہ اس ٹائم لائن پر ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں جماعتوں کے ارکان نے مایوسی کا اظہار کیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی امن معاہدے کے بعد بھی ایندھن اور تیل کی قیمتیں بلند رہ سکتی ہیں۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تینوں عہدیداروں نے بتایا کہ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز کے آس پاس کے علاقے میں بارودی سرنگیں بچھا چکا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ مشرقِ وسطیٰ کے تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔
ایک اعلیٰ عہدیدار نے کانگریس کو بتایا کہ ان میں سے بعض بارودی سرنگیں جی پی ایس ٹیکنالوجی کے ذریعے دور سے نصب کی گئیں، جس کے باعث تنصیب کے دوران امریکی افواج کے لیے ان کی نشاندہی کرنا مشکل ہو گیا۔
مزید یہ کہ خیال کیا جاتا ہے کہ کچھ دیگر بارودی سرنگیں ایرانی افواج نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے بھی بچھائی ہیں۔
Comments 0