وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ہر سطح پر میرٹ کے فروغ سے نوجوانوں کی ریاست سے دوری کا خاتمہ ممکن ہے انہوں نے کہا کہ ماضی میں محض ایک فیصلے کے تحت پنجاب سے تعلق رکھنے والے ماہر اساتذہ کو واپس بھیج کر بلوچستان کو تعلیمی میدان میں دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا بلوچستان کو کسی اور نے نہیں بلکہ اپنوں نے ہی پسماندہ رکھا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت بلوچستان عام اور غریب محنت کش طبقے تک ترقی کے ثمرات پہنچانے کے لیے پُرعزم ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں محکمہ تعلیم بلوچستان کے زیر اہتمام اسکولوں میں داخلہ مہم کے اہداف کی کامیاب تکمیل کے موقع پر منعقدہ ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، صوبائی وزیر نور محمد دمڑ، میر ضیاء لانگو، رکن صوبائی اسمبلی مولوی نور اللہ، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری تعلیم لعل جان جعفر، اسپیشل سیکرٹری عبدالسلام اچکزئی سمیت اعلیٰ حکام، ڈویلپمنٹ پارٹنرز اور تعلیمی شعبے سے وابستہ شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ انہوں نے اسمبلی فلور پر پہلے روز یہ وعدہ کیا تھا کہ صوبے میں کوئی نوکری فروخت نہیں ہونے دیں گے اور اس عہد کی پاسداری کو وہ اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں ننانوے اعشاریہ ننانوے فیصد اساتذہ کی بھرتیاں میرٹ پر کی گئی ہیں جبکہ پبلک سروس کمیشن سمیت دیگر محکموں میں بھی جدید ٹیکنالوجی، بالخصوص آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے شفاف اور میرٹ پر مبنی تقرریوں کو یقینی بنایا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ تعلیم کا شعبہ ان کے دل کے انتہائی قریب ہے اور داخلہ مہم کے اہداف کا حصول حکومت کا دیرینہ خواب تھا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں محکمہ تعلیم میں نوکریوں کے حصول کے لیے خصوصاً خواتین کو اپنے زیورات تک فروخت کرنا پڑتے تھے جو ایک شرمناک عمل تھا تاہم موجودہ حکومت نے اس روایت کا خاتمہ کر دیا ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کا پہلا ہدف بچوں کو اسکولوں تک لانا اور دوسرا انہیں معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ تعلیمی شعبے میں مختلف اصلاحاتی اقدامات پر عملدرآمد جاری ہے انہوں نے اس امر کا بھی اعتراف کیا کہ دہشت گردی کے باعث دیگر شعبوں کی طرح تعلیم بھی بری طرح متاثر ہوئی، تاہم اب تعلیمی حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں اب وقت آگیا ہے کہ باصلاحیت اساتذہ اور نوجوان اپنی محنت سے نہ صرف ملک بھر میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے چیف سیکرٹری شکیل قادر خان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مختلف شعبوں میں جاری اصلاحات ان کی محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا نتیجہ ہیں انہوں نے کہا کہ اگرچہ انہیں خیبر پختونخوا میں چیف سیکرٹری کے عہدے کی پیشکش تھی تاہم انہوں نے بلوچستان میں رہ کر صوبے کے عوام کی خدمت کو ترجیح دی اور حکومت کے وژن کو عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے صوبے کے اس عام آدمی تک رسائی حاصل کی ہے جو سخت موسمی حالات میں زندگی بسر کرتا ہے اور اب اسی طبقے کی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے تقریب کے اختتام پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے داخلہ مہم میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے اولین پانچ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران میں حسنِ کارکردگی کے سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کیے۔
Comments 0