ریاض (بی بی سی) برطانوی وزیرِ خارجہ یویٹ کوپر کا کہنا ہے کہ روس اور ایران عالمی معیشت کو ’ہائی جیک‘ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز میں حملوں کے باعث بحری ٹریفک محدود ہو گئی ہے۔یویٹ کوپر نے کہا کہ روس اور ایران کے درمیان تعلقات ’طویل عرصے سے ہیں اور دونوں ممالک کی اپنے ’طرزِ عمل‘ اور ’حربوں‘ میں مماثلت ہے۔انھوں نے کہا کہ ’ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں ریاستیں کس طرح ایک دوسرے کی مدد کرنے اور مل کر فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ عالمی معیشت کو ہائی جیک کیا جا سکے۔‘یویٹ کوپر نے سعودی صحرا میں برطانوی فوج کے ایئر ڈیفنس یونٹ کا دورہ کیا۔انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ رائل آرٹلری کے فوجیوں کا یہ دستہ سعودی عرب اور اس کے خلیجی عرب اتحادیوں کے لیے برطانیہ کے جاری دفاعی عزم کا حصہ ہے۔یہ تعیناتی، جسے ’آپریشن کراس ویز‘ کا نام دیا گیا ہے، 2022 میں شروع ہوئی تھی لیکن ایران کی جانب سے روزانہ ڈرون، کروز اور بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ریاض میں برطانیہ کے دفاعی اتاشی بریگیڈیئر بین وائلڈ کے مطابق ایران بنیادی طور پر خطے میں امریکی افواج کو نشانہ بنا رہا ہے، برطانوی فوجیوں کو نہیں، اور ساتھ ہی اقتصادی اہداف کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
Comments 0