گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول عیسیٰ خان میں پرنسپل کے ناروا رویے پر اساتذہ و والدین میں تشویش

گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول عیسیٰ خان میں پرنسپل کے ناروا رویے پر اساتذہ و والدین میں تشویش
کوئٹہ: گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول عیسیٰ خان میں نظم و ضبط کے نام پر اساتذہ کے ساتھ مبینہ ناروا رویے اور غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل کے باعث صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ادارے کی پرنسپل شہر بانو نے دوبارہ عہدہ سنبھالتے ہی بعض فیمیل اساتذہ کے ساتھ مبینہ طور پر سخت، توہین آمیز اور جانبدارانہ رویہ اختیار کر لیا ہے، جس سے تعلیمی و تدریسی ماحول بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ متاثرہ اساتذہ کا کہنا ہے کہ انہیں معمولی معاملات کی بنا پر بار بار طلب کیا جاتا ہے اور ذاتی نوعیت کے طعنے دیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق فرقہ واریت اور قومیت جیسے حساس موضوعات کو بلاجواز چھیڑا جاتا ہے جبکہ غیر ہزارہ اساتذہ کو خصوصی طور پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایک خاتون استاد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ “ہم اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری سے ادا کر رہے ہیں، لیکن ہمیں مسلسل ذہنی دباؤ میں رکھا جا رہا ہے، والدین اور طالبات کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ سے ہماری عزتِ نفس اور پیشہ ورانہ وقار متاثر ہو رہا ہے۔” طالبات نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کے ساتھ اس طرح کے رویّے سے تعلیمی ماحول پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جو ان کی پڑھائی اور ذہنی سکون کے لیے نقصان دہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ پرنسپل کے خلاف ماضی میں بھی اسی نوعیت کی شکایات سامنے آنے پر ان کا تبادلہ کیا گیا تھا، تاہم دوبارہ تعیناتی کے بعد حالات مزید بگڑ گئے ہیں۔ اساتذہ اور والدین نے وزیر تعلیم اور محکمہ تعلیم بلوچستان کے سیکریٹری سے فوری نوٹس لینے، غیر جانبدارانہ انکوائری کرانے اور تعلیمی ماحول کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ داران کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے تاکہ اساتذہ اور طالبات کو ایک محفوظ، باوقار اور مثبت تعلیمی ماحول میسر آ سکے۔ اساتذہ نے کہا کہ اس پرنسپل کے خلاف صوبائی محتسب برائے انسداد ہراسیت کو بھی درخواست دیں گے تاکہ کسی اور فرد یا استاد کے ساتھ اس طرح کی ہراسمنٹ نہ ہوں۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.