آبنائے ہرمز میں ’ٹول ٹیکس یا گزرگاہ پر پابندیاں‘ قابلِ قبول نہیں ہوں گی، برطانوی وزیر اعظم

آبنائے ہرمز میں ’ٹول ٹیکس یا گزرگاہ پر پابندیاں‘ قابلِ قبول نہیں ہوں گی، برطانوی وزیر اعظم
خلیجی ممالک کے دورے کے اختتام پر برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ اس پورے دورے میں زیادہ تر گفتگو آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے لیے ’عملی منصوبے‘ پر مرکوز رہی۔ یہ اہم آبی راستہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل کا مرکز ہے، لیکن ایران کی جانب سے اجازت کے بغیر گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے بعد یہاں سے گزرنے کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے کہا کہ ’یہ تنازع ہماری آنے والی نسل کو متعین کرے گا اور ہمیں اس کا جواب دینا ہوگا، اور ہم مضبوطی سے جواب دیں گے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے خلیجی رہنماؤں کے ساتھ ’مشترکہ دفاع‘ کے موضوع پر بھی بات چیت کی۔ جمعرات کی شب کیئر سٹارمر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی گفتگو کی، اور ڈاؤننگ سٹریٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے موجودہ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی کے لیے ’عملی منصوبے‘ کی ضرورت پر بات کی۔ موجودہ صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے تسلیم کیا کہ موجودہ جنگ بندی ’نہایت نازک‘ ہے، اور انھوں نے نشریاتی اداروں کو بتایا کہ خطے میں کسی بھی طویل المدتی امن معاہدے کے حصے کے طور پر آبنائے ہرمز میں ’ٹول ٹیکس یا گزرگاہ پر پابندیاں‘ قابلِ قبول نہیں ہوں گی۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.