واشنگٹن ۔ (اے پی پی):تقریباً نصف صدی بعد ایک بار پھر چاند کی طرف روانہ کئے گئےانسان بردار خلائی مشن ارٹیمس II کے عملہ نے زمین کی طرف واپسی کے سفر کا آغاز کردیاہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق آرٹیمس II کے خلاباز چاند کے مدار میں چکر لگانے اور اپنے خلائی جہاز سے مکمل سورج گرہن کا مشاہدہ کرنے کے بعد زمین کی طرف واپسی کے سفر پر روانہ ہو گئے ہیں۔ خلائی مشن کے کمانڈر ریڈ وائزمین کا کہنا ہے کہ اورین خلائی جہاز کے عملے نے "ایسے مقامات دیکھے جو کسی انسان نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے جبکہ پائلٹ وکٹر گلوور کا کہنا ہے کہ انھوں نے جو مشاہدہ کیا اسے بیان کرنے کے لیے ان کے پاس الفاظ نہیں ۔ اس خلائی مشن کے دوران انسانوں کے زمین سے زیادہ سے زیادہ دوری 406,771 کلومیٹر تک پہنچ کر خلا میں انسانوں کے سب سے زیادہ فاصلہ طے کرنے کا سابقہ ریکارڈ توڑ دیا ۔چاند کے گرد مدار میں گردش کے دوران زمین کے مخالف سمت جانے سے خلابازوں کا ناسا سے رابطہ ٹوٹ گیا۔
زمین سے رابطے کی معطلی جو متوقع تھی تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چاروں خلا بازوں کو وائٹ ہائوس میں ملاقات کے لئے مدعو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تاریخ رقم کی ہے اور امریکا کو قابل فخر بنا دیا ہے ۔ خلائی مشن کو چاند سے زمین پر واپسی میں تقریباً چار دن لگیں گے۔ توقع ہے کہ وہ امریکا کے مغربی ساحل کے قریب بحرالکاہل میں 10 اپریل کومشرقی امریکی وقت کے مطابق شام 8 بج کر 7 منٹ پر لینڈ کریں گے جہاں پہلے سے موجود ٹیمیں ہیلی کاپٹروں میں خلابازوں کو سمندر سے اٹھائیں گی اور انہیں امریکی بحریہ کے قریبی جہاز تک لے جائیں گی۔ناسا کے مطابق اس جہاز پر خلابازوں کا طبی معائنہ کیا جائے گا۔
Comments 0