تہران(بی بی سی)ایران کے جنوبی صوبے خوزستان کے گورنر کے نائب سکیورٹی انچارج نے کہا ہے کہ آج ماہشہر پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا۔
ولیاللہ حیاتى کا کہنا ہے کہ بندر امام پیٹروکیمیکل کمپنی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ انھوں نے دونوں مقامات پر حملوں کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا ہے۔
ایرانی ذرائع نے حیاتى کے حوالے سے بتایا ہے کہ اب تک ان حملوں کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
یہ دونوں تنصیبات ایران کی پیٹروکیمیکل صنعت کا اہم حصہ ہیں، جہاں تیل اور گیس سے حاصل ہونے والی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔ ملک کے جنوب میں واقع یہ مراکز پیٹروکیمیکل پیداوار کے اہم مرکز ہیں اور خلیج فارس کے ذریعے برآمدات بھی کرتے ہیں۔
ایک بیان میں، پیٹروکیمیکل سپیشل اکنامک زون آرگنائزیشن نے کہا کہ صنعتی علاقے میں کام کرنے والے مزدوروں کو نکال لیا گیا ہے اور ممکنہ آلودہ مادے ’قریبی شہروں کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔‘
اسرائیلی دفاعی افواج نے بی بی سی کے سوالات کا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ اس صورتحال پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ انھوں نے جمعے کو تہران میں ’دہشت گرد حکومت کے بنیادی ڈھانچے کے مقامات کے خلاف حملوں کی ایک لہر‘ مکمل کر لی ہے۔
فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انھوں نے ایک فضائی دفاعی سائٹ کو نشانہ بنایا جہاں ’طیاروں کو نشانہ بنانے کے لیے میزائلوں کو ذخیرہ کیا گیا تھا‘ اور ساتھ ہی ایک فوجی تنصیب کو بھی نشانہ بنایا گیا۔‘
Comments 0