آنبائے ہرمز بحران کا حل عسکری اقدامات سے ممکن نہیں،آئی ایم او سربراہ

آنبائے ہرمز بحران کا حل عسکری اقدامات سے ممکن نہیں،آئی ایم او سربراہ
لندن ۔ (اے پی پی):بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے سربراہ آرسینیو ڈومینگیزنےکہا ہے کہ آنبائے ہرمز میں موجودہ بحران کے لیے کشیدگی میں کمی ناگزیر ہے اور صرف عسکری اقدامات سے مسئلہ حل نہیں ہو سکتا، بلکہ عملی سمندری حل درکار ہیں۔شنہوا کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانیہ کے دفتر خارجہ، کامن ویلتھ اور ترقیاتی امور کی میزبانی میں منعقدہ ایک مجازی اجلاس کے دوران کیا، جس میں 40 سے زائد ممالک کے وزرائے خارجہ نے حصہ لیا۔انہوں نے اجلاس میں آئی ایم او کی جاری کوششوں سے شرکاء کو آگاہ کیا اور تمام ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ خلیج فارس میں موجود تقریباً 20ہزارمحصور بحری عملے کی محفوظ واپسی کے لیے سفارتی اقدامات کی حمایت کریں اور انسانی ہمدردی کے راستے کھولیں۔ انہوں نے کہا کہ جزوی اور غیر مربوط اقدامات اب کافی نہیں ہیں۔ ضرورت ہے کہ سفارتی بات چیت، عملی اور غیرجانبدارانہ حل اور بین الاقوامی ہم آہنگ کارروائی کے ذریعے مسئلہ حل کیا جائے۔آئی ایم او اس وقت ساحلی ممالک کے تعاون، حفاظتی ضمانتوں اور عملی ہم آہنگی کی بنیاد پر ایک سمندری واپسی فریم ورک تیار کر رہا ہے، جس کا مقصد محصور جہازوں کو آزاد کروانا، عملے کی محفوظ تبدیلی کو یقینی بنانا اور ماحولیاتی بحران سے بچاؤ ہے۔ڈومنگویز نے بتایا کہ آئی ایم او نے ساحلی ممالک کے ساتھ محفوظ گزرگاہ کے فریم ورک، خطے میں سپلائی لائنز کی حفاظت اور انسانی امداد کی رسائی کے لیے بات چیت بڑھا دی ہے، جبکہ صنعت کے شراکت داروں کے ساتھ معلومات کے تبادلے اور ہم آہنگی کو مضبوط کیا گیا ہے۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.